”لا الہ الا اللہ کا خاص وظیفہ“

10 Bar perhain

بے شک ذکر وظیفہ کے لیے صرف لا الٰہ الا اللہ اور ذکر لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کا انضمام کسی روایت سے ثابت نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“أَفْضَلُ الذِّكْرِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الحَمْدُ لِلَّهِ”( رواہ الترمذی وابن ماجہ )“یعنی افضل ذکر “لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ” ہے اور افضل دعا “الحَمْدُ لِلَّهِ” ہے۔روایت کیا اس حدیث کو ترمذی اور ابن ماجہ نے کذا فی للمشکواۃ وقال الحافظ فی الفتح صفحہ 76 جزو 26 وحدیث:“أَفْضَلُ الذِّكْرِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الحَمْدُ لِلَّهِ”( رواہ الترمذی وابن ماجہ والحاکم)اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے رب! مجھے کوئی ایسی شے بتادے کہ اس کے ساتھ تجھ کو یادکروں اور دعاکروں ۔

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :لا الٰہ الااللہ۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے رب!اس کو تو تیرے تمام بندے کہتے ہیں میں ایسی شے چاہتا ہوں جس کو تو میرے لیے خاص کردے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے میرے سوا اور ساتوں زمین ایک پلہ میں رکھی جائیں اور لا الٰہ الا اللہ کو ایک پلے میں رکھا جائے تو لاالٰہ الا اللہ والا پلہ جھک جائےگا۔اس حدیث کو بغوی نے روایت کیا ہے شرح السنہ میں ۔(کذا فی المشکوٰۃ وقال الحافظ فی الفتح صفحہ 77،۔جزو۔26)

Leave a Comment