”ہاتھوں ، پیروں ، ٹانگوں اور پنڈ لیوں کی سوجن اور درد کا مکمل علاج“

hathoon pairron

آج ہم ہاتھوں پیروں کی سوجن چہرے کی سوجن اور ٹانگوں اور پنڈ لیوں کی سوجن ۔ یا پھر تمام بدن پر آنے والی سوجن کے بارے میں بات کریں گےکہ اس طرح کی سوجن کیوں ہوتی ہے اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں ہمیں کن باتوں کا دھیان کر نے کی ضرورت ہے کچھ کامیا ب اور اثر دار نسخوں کے بارے میں بھی جا نیں گے جن کا استعمال کر کے ہم اس مسئلے پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ آج کی باتیں بہت ہی زیادہ اہم ہیں اس لیے ان باتوں کو غور سے سنیے گا اور ان باتوں پر عمل بھی کیجئے گا تا کہ ان باتوں پر عمل کر کے آپ کو فائدہ حاصل ہو سکے۔ سب سے پہلے اس کے اسباب کے بارے میں جان لیتے ہیں تا کہ اصل سبب کو تلاش کر کے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

سب سے پہلے اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ اگر آپ ہارٹ کے مریض ہیں اور اس کے لیے آپ روزانہ دوائیاں کھا رہے ہیں اور اچانک ٹانکوں پر ہاتھوں پر سوجن آ جاتی ہے۔ تو ایسے میں آپ فوراً اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کر یں۔ اسی طرح اگر آپ کو یرقان کےمرض یا جگر کے مرض میں مبتلا ہیں یا پھیپھڑوں کے امراض یا گردوں کے امراض کا شکار ہیں یا شوگر کی بیماری کا سا منا ہے اور ایسے میں ہاتھوں اور پیروں پر یا چہرے پر سوجن آ جاتی ہے یا دل خراب ہوتا ہےیا الٹی آتی ہے یا متلی ہوتی ہے۔ تو ایسے میں بھی آپ کو سستی کا مظاہرہ نہیں کر نا ہے فوراً آپ نے ڈاکٹر سے رابطہ کر نا ہے۔

اس کے علاوہ ایورک ایسڈ کی زیادتی یا جوڑوں کا درد اور خواتین میں ایام کی خرابی ہاتھوں یا پاؤں پر سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایسی خواتین جو بڑی عمر تک کنواری رہ جاتی ہیں یا ایسی خواتین جو فیملی پلیننگ کی ادویا ت کھاتی ہیں انہیں بھی اکثر اوقات بدن پر سوجن آ جاتی ہے۔ جس سے وہ عجیب قسم کے موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہیں جسم میں بہت زیادہ خون کی کمی واقع ہو جائے جیسے تھیلیسیمیا جیسی خون کی کمی جیسی بیماری میں مبتلا بچوں کے منہ پر سوجن ہو جاتی ہے ان میں جیسے ہی خون کم ہونے لگتا ہے اس کے جسم پر سوجن آ نے لگتی ہے جس سے بچے کے والدین کو پتہ لگ جاتا ہے کہ بچے میں خون کی کمی ہوئی ہوئی ہے۔

اور اب بچے کو خون لگوانے کی ضرورت ہے تو خون کی کمی ہونے پر بھی سوجن پیدا ہوتی ہے اور جسم میں خون بہت زیادہ بڑ ھ جائے تو اس سے بھی بدن پر سوجن آ نے لگتی ہے۔ لہٰذااس مسئلے میں خون کی کمی کو بھی مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ بعض دفعہ کچھ وٹامنز کی کمی کے باعث بھی یہ شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔

Leave a Comment