”قربانی سے قبل یہ باتیں پڑھ لیں ورنہ پچھتائیں گے۔ قربانی قبول نہیں ہو گی اس شخص کو ساتھ ملا نے پر ثواب کی بجائے سخت ع ز اب ہو گا۔“

Qurbani sy qabal

آج ایک اہم مسئلے پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں جس کا موضوع ہے قربانی۔ قربانی ایک ایسا عمل ہےکہ آپ ﷺ نے فر ما یا کہ ان دنوں میں یعنی دس ذی الحجہ سے لے کر تیرہ ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک جو قربانی کی جا تی ہے یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔ اب آپ ﷺ کی حدیث ہے کہ قربانی کا جانور جب ذ ب ح کیا جا تا ہے اس کا خ و ن کا قطرہ گرنے سے پہلے اللہ اس کو قبول کر لیتے ہیں اور قربانی کرنے والے کے تمام کے تمام گنا ہ وں کو معاف فر ما دیتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فر ما یا کہ جانور کے جسم کے اوپر جتنے بھی بال ہوں گے اللہ رب العزت اتنے ہی نیکیاں اتنے ہی ثواب دیا جا ئے گا اور اتنا ہی دراجات کو بلند کیا جا ئے گا اور قربانی کے حوالے سے بہت سارے لوگ کال کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ قربانی کا ٹائم کیا ہے قربانی کا دن کیا ہے دس ذی الحجہ کی عید کی نماز سے لے کر تیرہ ذی الحجہ کے سورج غرو ب ہونے سے پہلے پہلے ہم قربانی کر سکتے ہیں۔ بہت ساری کا لیں آتی ہیں تو واجب ہونے کی شرائط اور غلط فہمیاں محترم حاضرین قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں کہ قربانی کرنے والا مسلمان ہو عاقل بالغ ہو آزاد ہو۔ اور مقیم ہو۔ یہ ان حضرات پر قربانی واجب ہے اور دوسرا یہ ہے کہ صاحبِ نصاب ہونا ساڑھے سات تولے سونا کی مقدار چاہے اس کے پاس مکان کی صورت ہے ویسے ہی مکان سے زائد مکان کی صورت میں یا مالِ تجارت میں ہے یا مالِ یعنی ضروریات زندگی کے گھر کے اندر جو سامان ہے وہ صاحبِ نصاب ہے۔

تو اکثر غلط فہمی ہو تی ہے کہ گھر کے اندر مالک قربانی کر ے ۔ اگر یہ شرائط ہو تی ہیں کہ صاحب ِ نصاب ساڑھے سات تولے سونے کی مقدار میں آپ نے جا ئیداد ہے پلاٹ ہے۔ مالِ تجارت ہے۔ تو اس صورت میں اگر گھر کے جتنے بھی افراد ہیں ان سب کے اوپر قربانی واجب ہے اگر نہیں کر یں گے تو وہ گنہگار ہوں۔ اب اسی لحاظ سے کن جانوروں کی قربانی جائز ہے۔ بھینس بھینسا۔ گائے ، بیل ، بکری ، بکرا اونٹ انٹنی مینڈا یعنی دمبا اور بھیڑ آپ ﷺ نے فر ما یا کہ بھیڑ اور دنبے کی قربانی سب سے زیادہ افضل ہے۔ اس لیے اس کے بال بہت زیادہ ہو تے ہیں تو آپ ﷺ نے فر ما یا کہ جتنے بال ہوں گے اتنے ہی اجر و ثواب اور اتنی نیکیاں اور اتنا ثواب ملے گا اب آپ نے ان باتوں پر عمل کر نا ہے تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے۔

Leave a Comment