”جن لوگوں نے قربانی کی ہو ان کے گھروں میں گوشت دینے سے پہلے ایک بار حضور ﷺ کا فرمان سن

Jin logo ny qrbanii

مارے بھائی نے یہ سوال کیا ہے کہ جن لوگوں نے قربانی کی ہو ان کے گھروں میں قربانی کا گوشت دینا جا ئز ہےیا نا جا ئز ہے آج اس موضوع پرگفتگو کر یں گے۔ لیکن اس سے پہلے ایک گزارش کر نا چاہوں گا کہ میری ان باتوں کو آپ نے بہت ہی اچھے سے سننا ہے تا کہ ان باتوں پر آپ عمل بھی کر سکیں۔ یہ بہت اہم اور بہت ضروری مسئلہ ہے کہ کیا جن لوگوں نے قربانی کی ہو تی ہے ان کے گھروں میں گوشت دینا جائز ہےیا نا جا ئز ہے دیکھیں اگر میں قربانی کر رہا ہوں میں قربانی کر رہا ہوں تو دوسرے جو لوگ ہیں انہوں نے بھی قربانی کی اب وہ میرے گھر میں قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں دے سکتے دے تو سکتے ہیں۔

لیکن اس گوشت کے جو مجھ سے زیادہ حق دار ہیں مستحق ہیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانی نہیں کی جن لوگوں نے قربانی نہیں کی جن کے بچے بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں جن کے بچے اس انتظار میں ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی کس کا گوشت آ ئے گا ہم بھی بنا ئیں گے اور بنا کر دوسرے لوگوں کی طرح ہم آج بھی گوشت کے ساتھ کھا نا کھا ئیں گے۔

تو وہ مجھ سے زیادہ مستحق وہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانی نہیں کی ہمیں بھی یہی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے رشتہ داروں نے محلے داروں نے قربانی کی ہے تو ہم ان کے گھروں میں گوشت دینے کی بجائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایک حصہ رشتہ داروں کا بھی ہو تا ہے ان کے گھر پہنچانے کی بجائے ہم ان لوگوں تک گوشت پہنچائیں جنہوں نے قربانی نہیں کی جن کے بچے اس اتنظار میں ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی قربانی کا گوشت آ ئے گا۔

Leave a Comment